لندن میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایران میں شروع ہونے والی جنگ کے گزشتہ پچاس دنوں کے دوران عالمی منڈی کو خام تیل کی پیداوار میں پچاس ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے اثرات نہ صرف آنے والے مہینوں بلکہ برسوں تک عالمی توانائی کے شعبے پر مرتب ہوتے رہیں گے۔
کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق فروری کے اواخر سے اب تک عالمی مارکیٹ سے خام تیل اور کنڈینسیٹ کے پچاس کروڑ بیرل غائب ہو چکے ہیں، جسے جدید تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران عالمی سطح پر زمینی ذخائر میں پینتالیس ملین بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ مارچ کے آخر سے اب تک تیل کی یومیہ پیداوار میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ بیرل کا تعطل پیدا ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کویت اور عراق میں موجود بھاری خام تیل کے فیلڈز کو معمول کی پیداواری سطح پر واپس لانے میں چار سے پانچ ماہ کا عرصہ درکار ہو سکتا ہے، جس کے باعث موسم گرما کے دوران بھی ذخائر میں کمی کا رجحان برقرار رہے گا۔
قطر کے راس لفان ایل این جی کمپلیکس اور ریفائننگ کی صلاحیت کو پہنچنے والے نقصانات کے پیش نظر علاقائی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی مکمل بحالی کا عمل برسوں پر محیط ہو سکتا ہے۔
