-Advertisement-

اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، ایران

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے چین کا سعودی ولی عہد سے رابطہ

بیجنگ نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی صدر شی...
-Advertisement-

ایران نے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے امکانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران فی الحال واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ماضی کے تجربات سے سبق نہیں سیکھ رہا اور اس کا موجودہ رویہ کسی بھی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا۔

ترجمان نے انکشاف کیا کہ ایران نے پاکستانی ثالث کو آگاہ کر دیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کے نفاذ کے پہلے دن سے ہی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اسماعیل بقائی کے مطابق واشنگٹن نے بحری ناکہ بندی اور ایرانی اثاثوں پر حملے کیے، جن میں ایک ایرانی جہاز کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ انہوں نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ تہران مذاکرات کے پچھلے ادوار کے دوران امریکی حملوں کو فراموش نہیں کر سکتا اور اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے کسی بھی نئی جارحیت کا ارتکاب کیا تو ایرانی مسلح افواج اس کا بھرپور جواب دیں گی۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران نے دس نکاتی تجاویز پیش کی تھیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی امریکی و اسرائیلی حملوں سے قبل مکمل طور پر مستحکم تھی۔ انہوں نے واشنگٹن کے اس مؤقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں لبنان میں جنگ بندی کو معاہدے کا حصہ تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا، حالانکہ ایران اس حوالے سے پاکستانی ثالث پر واضح کر چکا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی تنصیبات پر حملے وعدہ خلافی کے مترادف ہیں اور امریکہ مسلسل اپنے کیے گئے وعدوں سے انحراف کر رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -