جاپان کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں میں پیر کے روز سات اعشاریہ پانچ شدت کے زلزلے نے ہلچل مچا دی جس کے بعد حکام نے ساحلی پٹی کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز بحر الکاہل میں دس کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایواتے، اوموری اور ہوکائیڈو کے ساحلی علاقوں میں تین میٹر تک بلند سونامی لہریں اٹھ سکتی ہیں۔
جاپان کی وزیراعظم سنائے ٹاکائچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی جانیں بچانے کے لیے فوری طور پر نقل مکانی کریں۔ جاپانی نشریاتی ادارے این ایچ کے نے مناظر دکھائے ہیں جن میں لہروں کے خدشے کے پیش نظر بحری جہازوں کو ہاچینوہے بندرگاہ سے دور لے جایا جا رہا ہے جبکہ ٹی وی اسکرینوں پر سونامی کا الرٹ جاری کرتے ہوئے انخلا کی ہدایات بار بار نشر کی جا رہی ہیں۔
زلزلے کے جھٹکوں کے باعث شمالی ہونشو جزیرے کے علاقے اوموری میں بلٹ ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔ جاپانی سیسمک شدت کے پیمانے پر اس زلزلے کی شدت اپر فائیو ریکارڈ کی گئی ہے جو اتنی طاقتور ہے کہ اس میں انسانوں کا چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے اور غیر مستحکم کنکریٹ کی دیواریں گر سکتی ہیں۔
جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے سب سے زیادہ آتے ہیں اور یہاں ہر پانچ منٹ میں کم از کم ایک جھٹکا محسوس کیا جاتا ہے۔ پیسیفک رنگ آف فائر پر واقع ہونے کے باعث دنیا بھر میں چھ اعشاریہ صفر یا اس سے زائد شدت کے بیس فیصد زلزلے جاپان میں ہی آتے ہیں۔
ہوکائیڈو اور توہوکوا کے علاقوں میں فی الحال کوئی جوہری بجلی گھر فعال نہیں ہے تاہم متعلقہ پاور کمپنیوں کے کئی پلانٹس وہاں بند پڑے ہیں۔ توہوکوا الیکٹرک پاور کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اونگاوا جوہری بجلی گھر پر زلزلے اور سونامی کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
