اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر خارجہ اور عسکری قیادت نے جنوبی لبنان کے ایک مسیحی اکثریتی گاؤں میں اسرائیلی فوجی کی جانب سے یسوع مسیح کے مجسمے کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو کلہاڑی کے پچھلے حصے سے مسیحیوں کے مقدس نشان صلیب کو توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ تصویر یونس تیراوی نامی ایک صحافی نے جاری کی تھی۔ روئٹرز نے اس مقام کی تصدیق ڈیبل گاؤں کے طور پر کی ہے جو جنوبی لبنان کے ان چند دیہات میں سے ایک ہے جہاں اسرائیلی فوجی کارروائی کے باوجود مقامی آبادی موجود ہے۔ مقامی پادری فادی فلفل کے مطابق یہ صلیب گاؤں کے کنارے واقع ایک خاندانی باغ میں موجود ایک چھوٹے سے مزار کا حصہ تھی۔ فادی فلفل نے اسے ایک ہولناک فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے مقدس علامات کی اس طرح توہین ناقابل برداشت ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس واقعے سے شدید صدمے اور دکھ میں مبتلا ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ اقدام یہودی اقدار کے منافی ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے بھی اسے شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے پر معافی مانگتے ہیں اور ان تمام مسیحیوں کے جذبات کا احترام کرتے ہیں جنہیں اس سے ٹھیس پہنچی ہے۔
اسرائیلی فوج نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ رویہ فوج کی اقدار کے سراسر خلاف ہے اور وہ اس مجسمے کی بحالی کے لیے مقامی برادری کی مدد کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈیبل ان درجنوں دیہات میں شامل ہے جو اس وقت اسرائیلی قبضے میں ہیں۔ اگرچہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا چکا ہے، تاہم مقامی پادری فادی فلفل کا کہنا ہے کہ گاؤں کے مکین اب بھی محصور ہیں اور انہیں نقل و حمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ انسانی امداد کی فراہمی کے لیے امدادی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
