اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی دس روزہ جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں کشیدگی برقرار ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سرحدی پٹی اور دریائے لیتانی کے قریبی علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔
اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ جاری کیا ہے جس میں اکیس دیہاتوں سمیت پچاس سے زائد مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں شہریوں کی واپسی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ فوج کا موقف ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم کی جانب سے جاری سرگرمیوں کے پیش نظر ان علاقوں میں فوجی دستے تعینات رہیں گے اور یہ اقدام شمالی اسرائیل کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک بفر زون بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
جاری کردہ نقشے کے مطابق اسرائیلی فوج کی نئی تعیناتی لائن لبنانی سرحد سے پانچ سے دس کلومیٹر اندر تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں اسرائیلی دستے مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے سینئر رہنما محمود قماطی نے بیروت کے جنوبی مضافات میں رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ابھی اپنے گھروں کو واپس نہ لوٹیں کیونکہ اسرائیلی حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
فیلڈ صورتحال کے حوالے سے حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی گاڑیوں کے گزرنے کے دوران پہلے سے نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے چار ٹینک تباہ ہوئے ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس دعوے پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے تصدیق کی تھی کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران ان کا ایک فوجی ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔
لبنانی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق دو مارچ کو شروع ہونے والے اس تنازع میں اب تک دو ہزار تین سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں ایک سو ستتر بچے بھی شامل ہیں، جبکہ بارہ لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ حزب اللہ نے اپنے جانی نقصانات کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ کے اختتام تک تنظیم کے کم از کم چار سو جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ اسرائیل کے مطابق اس کے پندرہ فوجی اور دو شہری حزب اللہ کے راکٹ اور ڈرون حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
