بیجنگ کی سڑکوں پر گزشتہ ویک اینڈ کے دوران ہیومنائیڈ روبوٹ لائٹننگ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ہاف میراتھن میں انسانوں کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔ بیجنگ ای ٹاؤن روبوٹ ہاف میراتھن میں درجنوں روبوٹس نے حصہ لیا، جنہوں نے 13 میل یعنی 21 کلومیٹر طویل فاصلہ انسانی ایتھلیٹس سے الگ ٹریک پر طے کیا۔
چینی اسمارٹ فون کمپنی آنر کی جانب سے تیار کردہ روبوٹ لائٹننگ نے یہ میراتھن 50 منٹ سے کچھ زائد وقت میں مکمل کی، جبکہ اس فاصلے کا انسانی عالمی ریکارڈ 57 منٹ سے زائد ہے۔
آنر کے ڈویلپمنٹ انجینئر ڈو شیاؤڈی نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی دیگر شعبوں میں بھی منتقل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس کا موازنہ آٹوموٹو انڈسٹری سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح گاڑیوں کی صنعت مقابلوں کے ذریعے ترقی کی منازل طے کرتی ہے، روبوٹکس کا مستقبل بھی اسی طرح روشن ہے۔
اس ایونٹ کے دوران روبوٹس کی توازن، برداشت اور نیویگیشن کی صلاحیتوں کو حقیقی حالات میں پرکھا گیا۔ کچھ روبوٹس خودکار انداز میں دوڑے جبکہ کچھ کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا گیا، تاکہ انسانی کھلاڑیوں کے ساتھ کسی قسم کے تصادم سے بچا جا سکے۔
اگرچہ کچھ روبوٹس لڑکھڑائے یا اپنے راستے سے ہٹ گئے، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ تماشائیوں نے بھی اس پیش رفت کو حیران کن قرار دیا۔ سن زی گانگ نامی شہری نے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ روبوٹ انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیں گے، جبکہ جیانگ لیانگ ژی نے ان کی رفتار اور استحکام کو متاثر کن قرار دیا۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس میراتھن کا اصل مقصد محض رفتار کا موازنہ نہیں بلکہ روبوٹک ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے نکال کر مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور ہنگامی حالات میں استعمال کے قابل بنانا ہے۔ چین کی جانب سے شہری اور عسکری مقاصد کے لیے روبوٹ ٹیکنالوجی میں تیزی سے پیش رفت جاری ہے اور یہ ایونٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی سائنس فکشن سے نکل کر حقیقت کا روپ دھار رہی ہے۔
