-Advertisement-

پاکستان نے سرمایہ کاروں کی مانگ پر یورو بانڈز کا حجم 750 ملین ڈالر تک بڑھا دیا

تازہ ترین

امریکا کے ساتھ اعتماد کا فقدان بامعنی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہے، ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی قسم کے دباؤ یا طاقت کے سامنے...
-Advertisement-

پاکستان نے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر متوقع دلچسپی کے پیش نظر اپنے تین سالہ یورو بانڈ کے اجرا کو سات سو پچاس ملین ڈالر تک بڑھا دیا ہے۔ مشیر برائے وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق حکومت نے گرین شو آپشن کا استعمال کرتے ہوئے عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو مزید ڈھائی سو ملین ڈالر کے بانڈز جاری کیے ہیں۔

ابتدائی طور پر یہ بانڈز پانچ سو ملین ڈالر مالیت کے جاری کیے گئے تھے جو حکومت کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کا حصہ تھے۔ چار سال کے طویل وقفے کے بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان کی یہ پہلی واپسی ہے جس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ موجودہ عالمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود سرمایہ کاروں کی جانب سے اس پیشکش پر بھرپور ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے پاکستان کے خودمختار ییلڈ کرو کی گہرائی اور لیکویڈیٹی میں اضافہ ہوگا اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ رابطے مزید مضبوط ہوں گے۔

حکام کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت مستقبل میں جی ایم ٹی این پروگرام کے تحت مزید بانڈز کے اجرا کے لیے راہ ہموار کرے گی اور بین الاقوامی فنڈ ریزنگ کے لیے قیمتوں کا نیا بینچ مارک فراہم کرے گی۔ حکومت کا مقصد بیرونی مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانا اور قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کم کرنا ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کے یورو بانڈز کی بروقت ادائیگی کی تھی جس سے عالمی مارکیٹ میں ملکی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ یورو بانڈز سے حاصل ہونے والی رقم پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

حکومت اب جی ایم ٹی این اور بین الاقوامی سکوک پروگرام کے لیے مالیاتی مشیروں کی تقرری کی تیاری کر رہی ہے جبکہ پانڈا بانڈ کے اجرا پر بھی کام جاری ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اور میکرو اکنامک استحکام کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کے نزدیک پاکستان کے بارے میں خطرات کے تاثر میں واضح بہتری آئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -