بھارت اور جنوبی کوریا نے دو طرفہ تجارتی حجم کو 2030 تک 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک نے توانائی، اہم معدنیات، جہاز سازی، سیمی کنڈکٹرز اور اسٹیل کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ بھارت کے تین روزہ سرکاری دورے پر نئی دہلی میں موجود ہیں۔ یہ آٹھ برسوں میں کسی بھی جنوبی کوریائی صدر کا پہلا دورہ بھارت ہے۔ ان کے ہمراہ 200 سے زائد کاروباری شخصیات کا وفد بھی موجود ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے بعد صدر لی نے کہا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ ترقی کے لیے اقتصادی تعاون کے فریم ورک کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلی بار وزارتی سطح کی اقتصادی تعاون کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو جوہری توانائی، صاف توانائی اور سرمایہ کاری کے امور پر کام کرے گی۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی جہت ملے گی۔ موجودہ تجارتی حجم 27 ارب ڈالر ہے جسے 2030 تک 50 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگلے ایک عشرے کی کامیابی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب یہو ہان کو کے ساتھ مذاکرات کیے جن میں 2010 کے تجارتی معاہدے کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد تجارتی توازن کو بہتر بنانا اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔
اس موقع پر جنوبی کوریا کی معروف کمپنیوں سام سنگ الیکٹرانکس، ہیونڈائی موٹر اور ایل جی گروپ کے سربراہان بھی موجود تھے۔ ادھر پوسکو ہولڈنگز نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت کی جے ایس ڈبلیو کے ساتھ مل کر ریاست اوڈیشہ میں ایک ارب نو کروڑ ڈالر کی لاگت سے اسٹیل پلانٹ قائم کرے گی۔
عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے تناظر میں دونوں ممالک نے نیفتھا اور دیگر خام مال کی مستحکم فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ صدر لی اپنے دورہ بھارت کے اختتام پر ویتنام روانہ ہوں گے۔
