-Advertisement-

پاکستان کی درخواست پر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

تازہ ترین

امریکہ کی ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والوں پر نئی پابندیاں عائد

امریکہ نے منگل کے روز ایران کے لیے ہتھیاروں کے حصول میں مدد فراہم کرنے والے 14 افراد اور...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے متفقہ تجاویز پیش کرنے تک امریکی فوج حملے سے گریز کرے گی۔

امریکی صدر کے مطابق یہ فیصلہ پاکستانی ثالثوں کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو رہی تھی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنی فوج کو ناکہ بندی جاری رکھنے اور ہر لحاظ سے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے، تاہم جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کرتا اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، جنگ بندی برقرار رہے گی۔

ایرانی حکام کی جانب سے صدر ٹرمپ کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کا کہنا ہے کہ تہران کا موقف بعد میں باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔

اس سے قبل، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کو جنگی اقدام اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران پابندیوں کو ناکام بنانا، اپنے مفادات کا دفاع کرنا اور دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنا جانتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تہران میں قیادت کے اندر اختلافات سفارتی کوششوں کو سست کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر انہوں نے ایران پر حملہ موخر کیا ہے تاکہ ایرانی قیادت ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کر سکے۔

دوسری جانب تہران سے اطلاعات کے مطابق ایران میں قیادت کے اندر کسی قسم کے انتشار کے دعوے غلط ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ایران کی قیادت متحد ہے اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی حلقے گزشتہ پندرہ برسوں سے ایک ٹیم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے اٹھ اپریل کو ہونے والی دو ہفتہ وار جنگ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے میں لبنان کی شمولیت اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔ امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کی بندش، میزائل تیاری میں کمی اور علاقائی اتحادیوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ تہران اپنے جوہری اور دفاعی حقوق پر سمجھوتہ کرنے سے انکاری ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -