فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کے خلاف ایک نیا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی نے اپنے پلیٹ فارمز پر دھوکہ دہی اور فراڈ کو روکنے کی کوششوں کے حوالے سے صارفین کو گمراہ کیا۔
یہ مقدمہ واشنگٹن ڈی سی کی سپیریئر کورٹ میں کنزیومر فیڈریشن آف امریکہ کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔ تنظیم کا موقف ہے کہ میٹا نے ان اشتہارات کو روکنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا جو صارفین کے لیے خطرہ بن سکتے تھے، جبکہ کمپنی نے ان مشکوک اشتہارات کو دکھانے کے عوض اشتہاریوں سے بھاری معاوضہ بھی وصول کیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ میٹا نے ایسی پالیسیاں اپنا رکھی ہیں جن کے بارے میں کمپنی بخوبی جانتی ہے کہ وہ پلیٹ فارم پر فراڈ زدہ اشتہارات کو فروغ دیتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق میٹا اپنے صارفین کی قیمت پر ان اشتہارات سے منافع کما رہی ہے۔
کنزیومر فیڈریشن آف امریکہ نے میٹا پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ اپنی ایپس پر دھوکہ دہی کی سنگینی کو چھپا کر صارفین میں تحفظ کا ایک جھوٹا تاثر پیدا کر رہی ہے۔
تنظیم کے ڈائریکٹر برائے اے آئی اینڈ ڈیٹا پرائیویسی بین ونٹرز کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے امریکی شہری آن لائن فراڈ کے باعث اپنی رقوم سے محروم ہو رہے ہیں، میٹا نے مسلسل اپنے صارفین کے تحفظ پر منافع کو ترجیح دی ہے۔
درخواست گزار تنظیم کا دعویٰ ہے کہ میٹا کے اقدامات واشنگٹن ڈی سی کے تحفظ صارفین کے قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ تنظیم نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میٹا سے ہرجانہ دلوائے اور ان غیر قانونی منافع جات کی بازیابی کا حکم دے جو ٹیکنالوجی کمپنی نے ان اشتہارات کے ذریعے کمائے ہیں۔
دوسری جانب میٹا کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم حقائق کو مسخ کر رہی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارمز پر فراڈ کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے۔
میٹا کے مطابق گزشتہ برس کمپنی نے 15 کروڑ 90 لاکھ سے زائد فراڈ زدہ اشتہارات ہٹائے، جن میں سے 92 فیصد کو کسی کی شکایت سے قبل ہی بلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ فیس بک اور انسٹاگرام پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ایک کروڑ 9 لاکھ اکاؤنٹس بھی بند کیے گئے۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ وہ سرمایہ کاری اور دیگر اقسام کے فراڈ کو روکنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
