-Advertisement-

لبنان میں اسرائیلی فوجی کے ہاتھوں مجسمہ یسوع کی بے حرمتی پر لاطینی پیٹریاک کی شدید مذمت

تازہ ترین

امریکی مخالفت کے باوجود مشیل بیچلیٹ خواتین کے حقوق کے دفاع پر ڈٹی رہیں

چلی کی سابق صدر مشیل بیچلیٹ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی مہم کے...
-Advertisement-

یروشلم کے لاطینی پیٹریاک کارڈینل پیئر بتیستا پیزابالا نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو توڑنے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ اطالوی خبر رساں ادارے انسا کے مطابق کارڈینل نے اس عمل کو عیسائی عقائد کی توہین قرار دیتے ہوئے اسے اخلاقی اور انسانی تربیت کی سنگین ناکامی قرار دیا ہے۔ انہوں نے پوپ لیو کے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ امن کا قیام غیر مسلح اور پرامن ذرائع سے ہی ممکن ہے۔

اطالیہ کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی اس واقعے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی علامات کی بے حرمتی طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی علامت ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر میں اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے سے مجسمہ توڑتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس پر عالمی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈین سار نے اس واقعے پر معافی مانگتے ہوئے اسے سنگین اور ذلت آمیز قرار دیا اور کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے بھی اس واقعے کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ رویہ ان کی اقدار کے منافی ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شمالی کمان نے مقامی کمیونٹی کے ساتھ رابطے کے بعد جنوبی لبنان کے علاقے دیبل میں تباہ شدہ مجسمے کی جگہ نیا مجسمہ نصب کر دیا ہے۔ فوج نے اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

لبنان کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دو مارچ 2026 سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سترہ اپریل 2026 تک ہلاکتوں کی تعداد کم از کم دو ہزار دو سو چورانوے تک پہنچ چکی ہے جبکہ سات ہزار ایک سو پچاسی سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -