-Advertisement-

یورپ چار سال میں دوسرے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے لگا

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی سفیر سے ملاقات، خطے میں کشیدگی کم کرنے پر تبادلہ خیال

اسلام آباد میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بدھ کے روز وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف...
-Advertisement-

یورپی کمیشن بدھ کے روز بجلی پر ٹیکسوں میں کمی اور گیس کے ذخائر کو بھرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران اور امریکا اسرائیل جنگ کے نتیجے میں توانائی کے بحران کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ مسودہ تجاویز کے مطابق یورپی یونین فی الحال گیس کی قیمتوں پر حد مقرر کرنے یا توانائی کمپنیوں کے غیر معمولی منافع پر ٹیکس لگانے جیسے سخت اقدامات سے گریز کرے گی۔

یورپی یونین کا منصوبہ ہے کہ ٹیکس قوانین میں تبدیلی لائی جائے تاکہ تیل اور گیس کے بجائے بجلی کے استعمال کو ترجیح دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی رکن ممالک کو اجازت دی جائے گی کہ وہ صنعتوں کے لیے بجلی کے ٹیکس صفر تک کم کر سکیں۔ کمیشن گیس کے ذخائر کو مکمل کرنے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون کو مربوط کرے گا اور جیٹ ایندھن کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے رہنما خطوط بھی فراہم کرے گا۔

تزویراتی لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد سے یورپ میں قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ منگل کے روز یورپ میں گیس کی قیمت 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ اب تک ایندھن کی کوئی بڑی قلت پیدا نہیں ہوئی، لیکن ایئرلائنز نے خبردار کیا ہے کہ چند ہفتوں میں جیٹ ایندھن ختم ہو سکتا ہے۔

یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ بحران سے نمٹنے کے لیے فی الحال محتاط حکمت عملی اپنائی گئی ہے کیونکہ سبسڈی اور ٹیکسوں میں کمی کا اختیار زیادہ تر قومی حکومتوں کے پاس ہے۔ کمیشن کی جانب سے حکومتوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کاروباری اداروں کو فضائی سفر سے گریز کرنے کی ترغیب دیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو تیل کی فراہمی پر 2022 کے مقابلے میں زیادہ شدید اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم بجلی کی قیمتوں پر دباؤ کم رہنے کی توقع ہے کیونکہ گزشتہ برسوں کے دوران یورپ نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ایمبر تھنک ٹینک کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال یورپی یونین کی 71 فیصد بجلی کم کاربن والے ذرائع سے پیدا ہوئی، جو 2022 میں 60 فیصد تھی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -