-Advertisement-

امریکی بحری ناکہ بندی: ایرانی معیشت پر گہرے اثرات کے باوجود استحکام برقرار رہنے کا امکان

تازہ ترین

لبنان کا صحافی کی ہلاکت پر اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام

لبنان کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک صحافی کی ہلاکت کو وزیراعظم لبنان نے جنگی جرم...
-Advertisement-

امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد آنے والے ہفتوں میں ایران کی تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی کا امکان ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایران کی معیشت کے فوری طور پر مکمل تباہ ہونے کے دعوے قبل از وقت ہیں۔ کئی ہفتوں کی بمباری اور جوابی کارروائیوں کے بعد اب توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہو گئی ہے جہاں سے دنیا بھر کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز سے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ردعمل میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر جوابی ناکہ بندی عائد کی ہے تاکہ تہران کو امن مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔ تہران کی شاہد بہشتی یونیورسٹی کے اقتصادی ماہر پروفیسر سعید لیلاز کے مطابق اگر یہ ناکہ بندی دو سے تین ماہ تک جاری رہتی ہے تو یہ ایران کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران کو نقصان پہنچتا ہے تو خلیج فارس کے جنوبی ممالک کو اس سے کہیں زیادہ نقصان ہوگا۔

گلوبل رسک مینجمنٹ کے چیف اینالسٹ آرنے لوہمن راسموسن کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ذخیرہ کرنے کی گنجائش ایک ماہ کے اندر ختم ہونے کا امکان ہے اور اسے چند ہفتوں میں ہی تیل کی پیداوار کا کچھ حصہ بند کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ 12 اپریل سے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کے باعث ایران مالی طور پر تباہی کے دہانے پر ہے اور اسے شدید نقد رقم کی قلت کا سامنا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ناکہ بندی کے باعث ایران کا مرکزی برآمدی ٹرمینل جزیرہ خارگ اپنی گنجائش مکمل کر لے گا جس کے بعد ایرانی تیل کے کنویں بند کرنے پڑیں گے۔ مڈل ایسٹ اکنامک سروے کے ایڈیٹر جیمی انگرام نے کہا کہ ایران کے لیے تیل ذخیرہ کرنے کی حدود کا معاملہ دنوں کے بجائے ہفتوں میں حل ہوگا۔ انرجی انٹیلیجنس فرم کیپلر کے ماہر ہمایوں فلک شاہی کے تجزیے کے مطابق ایران کی خام تیل کی پیداوار مارچ میں دو لاکھ بیرل یومیہ کمی کے بعد 3.68 ملین بیرل تک آ گئی تھی اور اپریل میں اس میں مزید 4 لاکھ 20 ہزار بیرل یومیہ کمی متوقع ہے۔

تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران ماضی میں بھی پابندیوں کے دوران تیل کی آمدنی میں بڑی کمی کو برداشت کر چکا ہے اور ایرانی قیادت کی قوت برداشت کو کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ایران نے پاکستان کی ثالثی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا۔ بین الاقوامی کرائسز گروپ کے علی واعظ کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت پہلے ہی معاشی دباؤ جھیلنے کی عادی ہے اور اسے خدشہ ہے کہ یہ کشیدگی باہمی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -