-Advertisement-

سابق شاہ ایران کے صاحبزادے کی مغربی ممالک سے ایران کے خلاف جنگ میں مدد کی اپیل

تازہ ترین

ایران: ہسپتال پر حملے کے دوران نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے والی نرس قومی ہیرو قرار

تہران میں ہسپتال پر حملے کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں بچانے والی...
-Advertisement-

سابق ایرانی شاہ کے صاحبزادے رضا پہلوی نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں شامل ہوں۔ برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے جرمن حکومت کی جانب سے ان سے ملاقات نہ کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی۔

دورہ برلن کے موقع پر ایک ناخوشگوار واقعہ اس وقت پیش آیا جب رضا پہلوی ایک کانفرنس سے باہر نکل رہے تھے کہ کسی نامعلوم شخص نے ان پر سرخ مائع پھینک دیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو حراست میں لے لیا۔

رضا پہلوی نے یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ تماشائی بنے ہوئے ہیں اور تہران حکومت کو مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی اجازت دے رہے ہیں، جن کے نتیجے میں گزشتہ برس کے اختتام پر ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ایران میں تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اصل سوال یہ ہے کہ مغربی جمہوریتیں اس وقت تک کتنی مزید ایرانی جانوں کے ضیاع کا انتظار کریں گی۔

برلن کے وسطی علاقے میں رضا پہلوی کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے مظاہرے کیے گئے، اسی دوران ان پر مائع پھینکے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ رضا پہلوی، جو طویل عرصے سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، گزشتہ برس ایران میں شروع ہونے والی حکومت مخالف لہر کے بعد ایک ممکنہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔

تاہم، ایرانی اپوزیشن گروہ تاحال منقسم ہیں اور مغربی حکومتیں ان کی حمایت کرنے میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ ان کی عوامی مقبولیت کے بارے میں کوئی واضح رائے موجود نہیں ہے۔

جرمنی سمیت متعدد یورپی ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی فضائی کارروائیوں کے بعد سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

رضا پہلوی نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی حکومت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان سے ملاقات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار کے حامل ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس سے چاہیں بات چیت کر سکتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -