-Advertisement-

اقوام متحدہ کی جانب سے بھارت میں سکھ شہری کی طویل حراست کی شدید مذمت

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے پیش نظر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے...
-Advertisement-

اقوام متحدہ کے دس ماہرین نے بھارت میں جگتار سنگھ جوہل کی مسلسل قید کو انصاف کا قتل اور نفسیاتی تشدد قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹھ سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی یہ قید بلا جواز ہے اور بھارتی حکام کو ان پر عائد بقیہ الزامات ختم کر کے انہیں رہا کرنا چاہیے۔

سکاٹ لینڈ کے علاقے ڈمبارٹن سے تعلق رکھنے والے انتالیس سالہ جگتار سنگھ جوہل کو دو ہزار سترہ میں شادی کے چند ہفتوں بعد بھارت سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں دو ہزار پچیس میں دہشت گرد گروپ کی مالی معاونت کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا تاہم وہ اب بھی بھارتی حکومت کی جانب سے دائر کیے گئے وفاقی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بغیر کسی واضح ٹرائل کے ساڑھے آٹھ سالہ حراست انصاف نہیں بلکہ غیر قانونی اذیت ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل غیر یقینی صورتحال بذات خود ایک قسم کا نفسیاتی تشدد ہے، کیونکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ٹرائل کے انتظار میں طویل ذہنی کرب کو تشدد کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔

جگتار سنگھ جوہل کے بھائی گرپریت سنگھ جوہل نے برطانوی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے یہ اب تک کی سب سے سخت تنبیہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر سے سوال کیا کہ جب وہ اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے رہائی کا مطالبہ کیا تھا، اب جبکہ وہ وزیر اعظم ہیں تو انہیں جگتار کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

برطانیہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں ریڈریس اور ریپریو نے بھی برطانوی حکومت کی خاموشی پر تنقید کی ہے۔ ریڈریس کے ڈائریکٹر روپرٹ اسکلبیک کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کو اپنے شہری کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کو ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہییں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے بھارتی حکام کو ایک نیا مراسلہ بھیجا ہے اور وہ اس کیس میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ دو ہزار بائیس میں بھی اقوام متحدہ کے ایک پینل نے جگتار سنگھ جوہل کی حراست کو من مانی قرار دیا تھا، جبکہ جوہل نے دوران حراست تشدد کا شکار ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -