پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز شدید مندی کا رجحان رہا اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں افراتفری دیکھی گئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2 ہزار پوائنٹس سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
گزشتہ سیشن میں 24 سو پوائنٹس کی تنزلی کے بعد مارکیٹ سنبھل نہ سکی اور دوپہر کے وقت انڈیکس 2 ہزار 11 پوائنٹس یا 1 اعشاریہ 19 فیصد کمی کے ساتھ ایک لاکھ 67 ہزار کی سطح کے قریب رہا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنایا اور حصص کی اندھا دھند فروخت جاری رہی۔
بینکنگ، فرٹیلائزر اور آئل اینڈ گیس کے شعبوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ حبکو، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی اور یو بی ایل کے حصص کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہوئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار 405 اعشاریہ 93 پوائنٹس یا 1 اعشاریہ 40 فیصد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ ایک لاکھ 69 ہزار 173 اعشاریہ 38 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں مندی کا غلبہ رہا جہاں 100 انڈیکس میں شامل 82 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گریں جبکہ صرف 18 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا۔
ایف ایف سی میں 1 اعشاریہ 94 فیصد، یو بی ایل میں 1 اعشاریہ 99 فیصد اور میزان بینک میں 2 اعشاریہ 32 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی۔ اس ہفتے کے دوران انڈیکس کا مجموعی ریٹرن منفی 2 اعشاریہ 7 فیصد رہا۔
اس دوران مارکیٹ کا حجم 30 اعشاریہ 8 ارب روپے رہا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انڈیکس اب ایک لاکھ 65 ہزار سے ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی سپورٹ زون میں داخل ہو چکا ہے جہاں سستے داموں حصص کی خریداری کے باعث کچھ بہتری کے آثار بھی نظر آئے۔
