-Advertisement-

پہلگام واقعہ: قومی سلامتی کمیٹی کا بھارتی الزامات مسترد، ملکی خودمختاری کے تحفظ کا اعادہ

تازہ ترین

آبنائے ہرمز سے 24 گھنٹوں کے دوران صرف پانچ بحری جہازوں کا گزر

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود خطے میں...
-Advertisement-

قومی سلامتی کمیٹی نے پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر سخت اور دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کسی بھی قسم کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کمیٹی نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملکی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

پہلگام واقعے کے تناظر میں 22 اپریل 2025 کے واقعات کے بعد 24 اپریل 2025 کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں ملکی سیکیورٹی اور علاقائی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے 23 اپریل کو بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو یکطرفہ، غیر منصفانہ اور قانونی جواز سے عاری قرار دیا۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے لیے پاکستان کی حمایت اصولی اور غیر متزلزل ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں عوامی ردعمل انسانی حقوق کی جاری پامالیوں کا نتیجہ ہے، لہذا پہلگام واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوئی بھی کوشش بغیر کسی مصدقہ ثبوت کے بے بنیاد اور ناقابل قبول ہے۔

نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ کمیٹی نے علاقائی بیانیے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دارانہ رویے پر زور دیا تاکہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کیا جا سکے۔

اجلاس کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ آبی وسائل پاکستان کا اہم قومی مفاد ہیں اور پانی کے حصے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ پاکستان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، تاہم اپنی ارضی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -