راولپنڈی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔ پہلگام میں ہونے والے مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے سامنے آنے والی خفیہ دستاویزات نے بھارت کے ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ یہ دستاویزات ثابت کرتی ہیں کہ بھارت اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل اور انتہا پسندی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے گھناؤنے ہتھکنڈوں کا سہارا لیتا رہا ہے۔
لیک ہونے والی دستاویزات میں واضح طور پر درج ہے کہ اننت ناگ کے علاقے میں منصوبہ بندی کے تحت فالس فلیگ آپریشن کیا جانا تھا۔ اس سازش کا مقصد ایک منظم بیانیہ تشکیل دینا تھا جس کے ذریعے یہ تاثر دیا جا سکے کہ غیر مسلموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر دو سو سے زائد اکاؤنٹس کو متحرک کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو تیز کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔
بھارتی میڈیا کا کردار بھی اس منصوبہ بندی کا حصہ تھا، جس نے واقعہ کے محض تین گھنٹے کے اندر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ دستاویزات سے یہ بھی عیاں ہے کہ اس فالس فلیگ آپریشن کو بنیاد بنا کر عالمی برادری سے انسداد دہشت گردی کے نام پر تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جانی تھی۔
یہ انکشافات پاکستان کے اس موقف کی توثیق کرتے ہیں کہ پہلگام واقعہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جو بھارتی ریاستی سرپرستی میں انجام دی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات ہندوتوا نظریے سے متاثر بھارتی خفیہ ایجنسی کے دہشت گردانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
