امریکا اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں، جس سے خطے میں قیامِ امن کی امیدیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دو ماہ سے جاری اس تنازع میں تہران اور واشنگٹن دونوں ہی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان کسی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا ہے۔ اس پیش رفت نے امن مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔
اس تعطل کے باعث عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، جس سے توانائی کی قیمتیں کئی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں اور عالمی مہنگائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کے امکانات بھی ماند پڑ گئے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ تہران دھمکیوں یا محاصرے کے سائے میں کسی بھی قسم کے مسلط کردہ مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔ ایرانی حکومت کے بیان کے مطابق، صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکا کو پہلے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی سمیت دیگر آپریشنل رکاوٹیں ہٹانا ہوں گی۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دورہ منسوخ کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ ایرانی پیشکش ناکافی تھی اور اس کے لیے سفارتی وفد کا سفر اور اخراجات غیر ضروری تھے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت میں شدید انتشار پایا جاتا ہے اور انہیں خود معلوم نہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس تمام کارڈز موجود ہیں اور اگر ایران بات چیت چاہتا ہے تو انہیں خود رابطہ کرنا ہوگا۔
اس کے برعکس، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ تہران میں کوئی سخت گیر یا اعتدال پسند کا فرق نہیں اور پوری قوم سپریم لیڈر کے پیچھے متحد ہے۔ ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیلی قیادت نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا، جس سے تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جہاں سے دنیا بھر کی پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے، جبکہ امریکا نے ایران کی تیل کی برآمدات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ یہ تنازع 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد شروع ہوا تھا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل، امریکی اڈوں اور خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا تھا۔
