ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان پہنچیں گے جس کے بعد وہ روس روانہ ہوں گے۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق یہ پیش رفت خطے کی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
عباس عراقچی ہفتے کے روز اسلام آباد سے روانہ ہوئے تھے جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان مذاکرات میں ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی جنگ کے اثرات کو کم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
رپورٹس کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان تاحال خلیج برقرار ہے۔ ایرانی حکام امریکی موقف کو انتہائی سخت قرار دے رہے ہیں جبکہ امریکہ کی جانب سے ایرانی مطالبات کو ناقابل قبول سمجھا جا رہا ہے۔
پہلے مرحلے میں کسی بڑی کامیابی کے باوجود پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی جانب سے سفارتی رابطوں کے لیے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔
توقع ہے کہ عباس عراقچی عمان میں قیام کے بعد اتوار کو دیر گئے دوبارہ اسلام آباد پہنچیں گے جہاں وہ پاکستانی حکام کے ساتھ مزید مشاورت کریں گے۔ ان کے ہمراہ آنے والا وفد مشاورت کے لیے تہران واپس جا چکا ہے جس کے دوبارہ ان کے ساتھ شامل ہونے کا امکان ہے۔
ادھر حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے اور بات چیت کا عمل فی الوقت تعطل کا شکار ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیوں کے بعد لگائی گئی رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں اور ٹریفک کے لیے سڑکیں بحال کر دی گئی ہیں۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان تنازعات کے حل اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
