-Advertisement-

کولمبیا میں دھماکہ خیز مواد کا حملہ، 13 افراد ہلاک، 17 زخمی

تازہ ترین

یوکرین جنگ کا خاتمہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا پیوٹن اور زیلنسکی سے رابطوں کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے مابین جاری جنگ کو ختم کرنے...
-Advertisement-

کولمبیا کے مغربی صوبے کائوکا میں ہونے والے ایک دھماکہ خیز حملے کے نتیجے میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کے روز پین امریکن ہائی وے پر کاجیبیو میونسپلٹی کے علاقے ایل ٹونل میں پیش آیا، جو صوبائی دارالحکومت پوپایان سے تقریباً پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حکام نے اس دہشت گردی کا ذمہ دار فارک گوریلا گروپ کے منحرف دھڑے کو قرار دیا ہے۔

صوبہ کائوکا کے گورنر اوکتاویو گزمین نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہفتے کے روز صوبے میں کئی دیگر پرتشدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امن و امان کی سنگین صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ کائوکا اس بربریت کا تنہا مقابلہ نہیں کر سکتا، یہ دہشت گردی کا ایک ایسا تسلسل ہے جس پر فوری کارروائی ناگزیر ہے۔

اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک سینٹر کی رہنما اور صدارتی امیدوار پالوما ویلنسیا نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر گستاو پیٹرو کی انتظامیہ کو تشدد کے واقعات کو معمولی سمجھنے کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلح افواج اور پولیس کی مکمل معاونت کی جائے تاکہ ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

صدر گستاو پیٹرو، جو خود ماضی میں باغی رہ چکے ہیں، اپنی مدت ملازمت کے اختتام کے قریب ہیں۔ ان کی حکومت نے گوریلا گروپوں کے ساتھ مذاکرات اور وقفے وقفے سے جنگ بندی کے ذریعے مکمل امن کی پالیسی اپنا رکھی ہے، تاہم حالیہ حملے نے ان کی حکمت عملی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ حملہ آور فارک کا وہ منحرف دھڑا ہے جس نے دو ہزار سولہ کے امن معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -