ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مسقط کے دورے کے بعد اتوار کو دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ دورہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے جوہری پروگرام پر تعطل کا شکار مذاکرات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کا مقصد پاکستانی حکام تک ایک اہم پیغام پہنچانا ہے۔
ایرانی وفد کا ایک حصہ مشاورت کے لیے مختصر وقت کے لیے تہران گیا تھا جس کے جلد ہی وزیر خارجہ کے ساتھ شامل ہونے کی توقع ہے۔ عباس عراقچی اس سے قبل عمان کے دارالحکومت میں اعلیٰ سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کر چکے ہیں جن میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا اسلام آباد میں قیام مختصر ہوگا اور وہ اتوار کے روز ہی روس کے دارالحکومت ماسکو روانہ ہو جائیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کے ساتھ ایرانی حکام کی ملاقاتوں میں سکیورٹی امور اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی تاہم ان مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ اسلام آباد ہر ممکن سفارتی کوششوں میں سہولت کاری کے لیے تیار ہے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔
عباس عراقچی نے ہفتے کے روز اسلام آباد سے روانگی اختیار کی تھی جس کے دوران ایران اور امریکہ و اسرائیل کے مابین کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔ ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے واشنگٹن کے موقف کو حد سے زیادہ سخت قرار دیا ہے جبکہ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ تہران کے مطالبات ناقابل قبول ہیں۔
