-Advertisement-

ماسکو: پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکیورٹی مذاکرات میں شرکت

تازہ ترین

اوپن اے آئی کا مائیکروسافٹ کے ساتھ خصوصی معاہدہ ختم، ایمیزون اور گوگل کے لیے راستے ہموار

مائیکرو سافٹ اور اوپن اے آئی کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں قائم تاریخی شراکت داری میں بڑی...
-Advertisement-

ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے نائب وزرائے خارجہ کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقائی سلامتی، باہمی تعاون اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چوبیس اپریل دو ہزار چھبیس کو روسی وزارت خارجہ میں ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان نے فعال شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے مابین رابطہ کاری کو مزید مستحکم بنانا اور تنظیم کی بین الاقوامی سطح پر فعالیت کو مؤثر بنانا تھا۔

اجلاس میں شرکاء نے علاقائی سکیورٹی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اقدامات اپنانے پر اتفاق کیا۔

پاکستان کے سفیر برائے روس فیصل نیاز ترمذی نے اجلاس میں ملکی نمائندگی کی۔ اس موقع پر انہوں نے اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا۔

فیصل نیاز ترمذی کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی امن، سلامتی اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان تنظیم کے بنیادی اصولوں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستانی سفیر نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کی غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار ترقی اور جامع سکیورٹی کے قیام کے لیے تعاون ناگزیر ہے۔

اجلاس کے ضمن میں پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روس، بیلاروس، تاجکستان، چین اور کرغیزستان کے وفود کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں جن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے تحت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -