-Advertisement-

ٹیلر سوئفٹ کا مصنوعی ذہانت سے اپنی آواز اور تصویر کے تحفظ کے لیے ٹریڈ مارک کا فیصلہ

تازہ ترین

پنجاب حکومت مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے: مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اپنے ہر مزدور کی صحت، فلاح و بہبود...
-Advertisement-

عالمی شہرت یافتہ امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کردہ ڈیپ فیک ویڈیوز اور آڈیو کلپس سے اپنی آواز اور شخصیت کے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹیلر سوئفٹ کی جانب سے امریکی پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس میں دو آڈیو کلپس اور اپنی ایک تصویر کو ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کروانے کے لیے درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔

یہ درخواستیں ٹیلر سوئفٹ کی کمپنی ٹی اے ایس رائٹس مینجمنٹ کے نام سے دائر کی گئی ہیں۔ ان آڈیو کلپس میں گلوکارہ کو اپنے نئے البم دی لائف آف اے شو گرل کی تشہیر کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جبکہ تصویر میں انہیں اسٹیج پر گلابی گٹار پکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیلر سوئفٹ کا یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے دور میں اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ٹریڈ مارک اٹارنی جوش گیربن کے مطابق یہ درخواستیں خاص طور پر اے آئی سے لاحق خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے دائر کی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ شہرت کے حقوق کے قوانین پہلے سے موجود ہیں، تاہم ٹریڈ مارک کا اندراج ایک اضافی حفاظتی ڈھال فراہم کرے گا۔

جوش گیربن نے وضاحت کی کہ آرٹسٹ روایتی طور پر اپنی ریکارڈ شدہ موسیقی کے تحفظ کے لیے کاپی رائٹ قوانین کا سہارا لیتے رہے ہیں، لیکن جدید اے آئی ٹیکنالوجی کسی بھی فنکار کی آواز کی ہو بہو نقل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس سے کاپی رائٹ قوانین میں خلا پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی گلوکار کی آواز کو ٹریڈ مارک کروانا ایک نیا تجربہ ہے جس کا عدالتوں میں ابھی امتحان ہونا باقی ہے۔

اس سے قبل اداکار میتھیو میک کوناگھی بھی اسی طرح کے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور ان کی جانب سے دائر کردہ اسی نوعیت کی درخواستیں منظور بھی ہو چکی ہیں۔ ٹیلر سوئفٹ کی ٹیم کی جانب سے اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -