جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کو ایک نئے اور پیچیدہ عسکری چیلنج کا سامنا ہے، جہاں حزب اللہ نے فائبر آپٹک کے ذریعے کنٹرول ہونے والے ڈرونز کا استعمال شروع کر دیا ہے جو الیکٹرانک جامنگ کے خلاف مکمل طور پر مزاحم ہیں۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کی رپورٹ کے مطابق ان ڈرونز کی وجہ سے اسرائیلی دفاعی نظام انہیں بروقت شناخت کرنے یا روکنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔
لبنان کے علاقے طیبہ میں پیش آنے والے ایک واقعے میں زخمی فوجیوں کو منتقل کرنے والا اسرائیلی ہیلی کاپٹر ان ڈرونز کی زد میں آیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمینی دستوں نے ہیلی کاپٹر کے قریب پہنچنے والے ڈرون پر فائرنگ کی، جس کے بعد وہ ہیلی کاپٹر کے نزدیک ہی دھماکے سے پھٹ گیا۔
یہ ڈرونز روایتی ریڈیو سگنلز کے بجائے فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کی لمبائی دسیوں کلومیٹر تک ہو سکتی ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ ڈرونز الیکٹرانک وارفیئر کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔ فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان ڈرونز کی ساخت میں فائبر گلاس کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی بدولت یہ ریڈار اور تھرمل سگنلز پر بہت کم ظاہر ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈرونز اسرائیلی ٹینکوں کے ٹرافی ایکٹو پروٹیکشن سسٹم کو بھی ناکام بنا رہے ہیں۔ طیبہ میں ہونے والے ایک حملے میں ایک بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فیلڈ کمانڈروں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس ان ڈرونز کے خلاف بہت محدود جوابی اقدامات موجود ہیں اور انہیں فی الحال صرف بصری شناخت یا چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
کچھ اسرائیلی یونٹس نے اپنی پوزیشنز اور گاڑیوں پر جال بچھا کر عارضی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ فوجی ذرائع کا ماننا ہے کہ اسرائیل کے موجودہ دفاعی نظام اس قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فائبر آپٹک ڈرونز انتہائی درست اور جامنگ سے محفوظ ہیں، تاہم خراب موسم یا طبعی رکاوٹیں ان کی کیبل کو توڑ سکتی ہیں۔ یہ پیش رفت علاقائی جنگ میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاس ہے جہاں کم قیمت ڈرون سسٹمز جدید ترین عسکری پلیٹ فارمز کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
