برطانوی پولیس نے شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودی شہریوں کو چاقو کے وار سے زخمی کرنے کے واقعے کے بعد پینتالیس سالہ ملزم عیسیٰ سلیمان پر اقدام قتل کی دو دفعات کے تحت فرد جرم عائد کر دی ہے۔ حکام نے اس واقعے کو مشتبہ دہشت گردی قرار دیا ہے۔
اس حملے کے بعد برطانوی حکومت نے ملک میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بڑھا کر دوسرے بلند ترین درجے پر کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ پیش آنے کا قوی امکان ہے۔
ملزم عیسیٰ سلیمان صومالی نژاد برطانوی شہری ہے، جس پر بدھ کے روز ہونے والے حملے کے علاوہ جنوبی لندن میں اسی دن پیش آنے والے ایک اور واقعے میں بھی اقدام قتل اور عوامی مقام پر دھار دار آلہ رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔
زخمی ہونے والے افراد میں چونتیس سالہ شخص کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ چھہتر سالہ معمر شخص تاحال زیر علاج ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا خطرہ گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھ رہا ہے اور خطرے کی سطح میں اضافہ محض اس حالیہ واقعے کا ردعمل نہیں ہے۔ انہوں نے غیر ملکی ریاستوں کے ملوث ہونے کے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ یہودی برادری کے خلاف تشدد کو ہوا دے رہی ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے یہودی برادری کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر لندن میں ہونے والے آئندہ فلسطین حامی مظاہروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس کے سربراہ مارک رولی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس مظاہروں پر مکمل پابندی تو نہیں لگا سکتی تاہم عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
برطانیہ میں اکتوبر دو ہزار تیئس سے جاری غزہ جنگ کے بعد سے یہودی برادری کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
