-Advertisement-

ایران اور بحیرہ احمر میں کشیدگی: عالمی تجارتی سمندری راستوں کی ازسرنو تشکیل

تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں پولیو کے دو مزید کیسز کی تصدیق، رواں سال تعداد تین ہو گئی

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو نے جمعہ کے روز جنوبی خیبر پختونخوا میں وائلڈ پولیو وائرس کے...
-Advertisement-

آبنائے ہرمز کی بندش اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارتی راستے تبدیل ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں افریقہ عالمی کنٹینر شپنگ کا نیا مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ لاجسٹک اور میری ٹائم ذرائع کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے جاری ناکہ بندی نے شپنگ کمپنیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ غذائی اجناس اور تیار شدہ مصنوعات کی ترسیل کے لیے متبادل زمینی راستے تلاش کریں۔

سعودی عرب کی بندرگاہ جدہ اب ایک نئے علاقائی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جہاں ایم ایس سی، سی ایم اے سی جی ایم، مئیرسک اور کوسکو جیسی بڑی کمپنیاں نہر سویز کے راستے سامان پہنچا رہی ہیں۔ یہاں سے کارگو ٹرکوں کے ذریعے شارجہ، بحرین اور کویت پہنچایا جا رہا ہے جہاں گزشتہ دو ماہ سے سمندری راستے سے ترسیل معطل ہے۔ اوورسی کے شریک بانی آرتھر بیریلاس ڈی تھی کا کہنا ہے کہ جدہ بندرگاہ پر بوجھ بڑھنے سے شدید رش پیدا ہو گیا ہے۔ کیپلر میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو گیارہ کنٹینر جہاز جدہ میں لنگر انداز تھے جبکہ نو جہاز انتظار میں تھے، جنہیں اترنے کے لیے اوسطاً 36 گھنٹے لگ رہے ہیں، جو گزشتہ ہفتے کے 17 گھنٹوں کے مقابلے میں دوگنا ہے۔

شپنگ کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے باہر عمان کی بندرگاہ صحار اور متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں خورفکان اور فجیرہ کو استعمال کریں گی۔ اسی طرح اردن کی بندرگاہ عقبہ عراق کے شہروں بغداد اور بصرہ تک سامان پہنچانے کا ذریعہ بن رہی ہے جبکہ ترکی کا راستہ بھی شمالی عراق کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بحیرہ احمر میں کشیدگی کا آغاز 19 نومبر 2023 کو حوثی ملیشیا کی جانب سے کنٹینر جہازوں پر حملوں کے بعد ہوا جس کے بعد سے جہازوں کا رخ تبدیل کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ اب جہاز افریقہ کے مشرقی ساحل اور کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد چکر لگا کر یورپ اور بحیرہ روم کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ لوئس ڈریفس آرماٹرز کے چیئرمین ایڈورڈ لوئس کا کہنا ہے کہ خلیجی صورتحال کے پیش نظر حالات جلد بہتر ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ ایفیسو کے ماہر ایو گیلو کے مطابق 2023 کے مقابلے میں بحیرہ احمر سے گزرنے والی 70 فیصد فریٹ ٹریفک اب کیپ آف گڈ ہوپ کا رخ کر رہی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پورٹ واچ پلیٹ فارم کے مطابق کیپ آف گڈ ہوپ سے گزرنے والی تجارتی جہازوں کی تعداد تین سال میں تین گنا بڑھ چکی ہے جبکہ باب المندب سے گزرنے والی ٹریفک نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔ رواں سال یکم مارچ سے 24 اپریل کے درمیان روزانہ اوسطاً 20 تجارتی جہاز کیپ آف گڈ ہوپ سے گزرے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد صرف چھ تھی۔

اس صورتحال کے معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایشیا اور یورپ کے درمیان ترسیل کا وقت اوسطاً دو ہفتے بڑھ گیا ہے اور ایندھن کی کھپت میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اپریل میں 40 فٹ کے معیاری کنٹینر کا کرایہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 14 فیصد بڑھ چکا ہے۔ افریقی بندرگاہوں پر سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں تاہم مصر کو نہر سویز کی آمدنی میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سائیکلوپ کے مطابق 2024 میں مصر کو سات ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو کہ 2023 کے مقابلے میں 60 فیصد سے زائد کی کمی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -