-Advertisement-

خیبر پختونخوا میں پولیو کے دو مزید کیسز کی تصدیق، رواں سال تعداد تین ہو گئی

تازہ ترین

صدر آصف علی زرداری کی غزہ امدادی قافلے کو روکنے کی شدید مذمت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے بحیرہ روم میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کو اسرائیلی فورسز کی جانب...
-Advertisement-

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو نے جمعہ کے روز جنوبی خیبر پختونخوا میں وائلڈ پولیو وائرس کے دو نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔

نئے کیسز بنوں اور شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں رسائی میں حائل رکاوٹیں وائرس کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہی ہیں، جو بچوں کی صحت کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

متاثرہ بچوں کا تعلق بنوں کی یونین کونسل جانی خیل اور شمالی وزیرستان کی یونین کونسل گڑیوم سے ہے۔ ان کیسز کی تصدیق اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی عالمی ادارہ صحت سے تسلیم شدہ ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے کی ہے۔

سال 2026 کے دوران پاکستان میں اب تک پولیو کے کل تین کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم کے آغاز سے قبل 1990 کی دہائی کے اوائل میں سالانہ تخمینہ 20 ہزار کیسز کے مقابلے میں اب تک پاکستان نے پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی لائی ہے۔ سال 2024 میں یہ تعداد 74 تھی جو 2025 میں کم ہو کر 31 رہ گئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی موجودگی اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اور ہدف پر مبنی کوششیں تیز کی جائیں۔ جب تک ملک کا ہر بچہ محفوظ نہیں ہوگا، تب تک کوئی بھی بچہ محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا۔

انسداد پولیو پروگرام اس خطے میں بچوں تک پہنچنے اور انہیں حفاظتی قطرے پلانے کے لیے سائنسی بنیادوں پر حکمت عملی مرتب کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی خیبر پختونخوا میں صحت کی مربوط خدمات بشمول غذائیت، معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات، زچہ و بچہ کی صحت، اور پانی و صفائی ستھرائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

پولیو ایک انتہائی متعدی اور ناقابل علاج بیماری ہے جو عمر بھر کی معذوری اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ بیماری ویکسین کے ذریعے مکمل طور پر قابل روک تھام ہے، جو دنیا کے 195 ممالک سمیت تمام مسلم ممالک میں محفوظ طریقے سے استعمال کی جا رہی ہے۔

رواں سال پاکستان میں دو قومی انسداد پولیو مہمات کے دوران تقریباً 45 ملین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں، جبکہ مئی میں ہونے والی اگلی مہم میں تقریباً 19 ملین بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پولیو کا خاتمہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ محکمہ انسداد پولیو نے والدین اور سرپرستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر مہم کے دوران ویکسین کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری اور موت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -