-Advertisement-

فیفا کا 2030 ورلڈ کپ کے لیے ٹکٹ پالیسی پر نظر ثانی کا فیصلہ

تازہ ترین

وزیراعظم کی ورچوئل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک پر فوری عملدرآمد کی ہدایت

وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ورچوئل اثاثوں کے لیے...
-Advertisement-

فیفا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 کے ورلڈ کپ کے لیے ٹکٹوں کی بلند ترین قیمتوں پر عوامی برہمی کے بعد 2030 کے ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹکٹنگ حکمت عملی پر نظر ثانی کرے گا۔ کینیڈا، میکسیکو اور امریکہ میں منعقد ہونے والے ایونٹ کے ٹکٹ مہنگے ہونے پر شائقین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

وینکوور میں فیفا کانگریس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیفا کے سیکرٹری جنرل میتھیاس گرافسٹروم نے کہا کہ موجودہ ٹورنامنٹ کے ٹکٹوں کی مہنگی قیمتیں شمالی امریکہ کی مارکیٹ کی حقیقت کی عکاس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ شائقین کی آراء کا احترام کرتے ہیں اور ان کے تحفظات کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہر ورلڈ کپ کی طرح اس بار بھی فیفا اپنی حکمت عملی کا جائزہ لے گا تاکہ آئندہ کے لیے بہتری لائی جا سکے۔

ٹکٹوں کی قیمتوں پر فٹ بال سپورٹرز یورپ نامی تنظیم نے فیفا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم نے قیمتوں کو لوٹ مار اور شائقین کے ساتھ دھوکہ دہی قرار دیا ہے۔ گزشتہ ماہ اس تنظیم نے یورپی کمیشن میں فیفا کے خلاف ایک مقدمہ بھی دائر کیا جس میں ٹکٹوں کی حد سے زیادہ قیمتوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔

فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو کا موقف ہے کہ قیمتوں میں اضافہ مانگ کے باعث ہوا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ میں ڈائنامک پرائسنگ کا نظام رائج ہے جس کے تحت میچ کی اہمیت کے لحاظ سے قیمتیں کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق فیفا کے اپنے ری سیل ایکسچینج پلیٹ فارم پر 19 جولائی کو ہونے والے فائنل میچ کے ٹکٹ 20 لاکھ ڈالر فی ٹکٹ تک فروخت کے لیے پیش کیے گئے، جبکہ دیگر پلیٹ فارمز پر بھی قیمتیں ہزاروں ڈالرز میں ہیں۔

جب میتھیاس گرافسٹروم سے پوچھا گیا کہ کیا ٹکٹوں کی قیمتوں پر عوامی غصہ 2026 کے ورلڈ کپ کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا تو انہوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ سے متوقع 13 ارب ڈالر کی آمدنی فٹ بال کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ فیفا فارورڈ پروگرام کے ذریعے یہ سرمایہ کاری رکن ممالک میں کھیل کے فروغ اور حقیقی اثرات مرتب کرنے کا باعث بنے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -