وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک جامع ریگولیٹری فریم ورک کو فوری طور پر فعال کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور ملکی ڈیجیٹل معیشت کو تیز تر بنانا ہے۔
یہ ہدایات وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) بلال بن ثاقب کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران دی گئیں۔ ملاقات میں چیئرمین نے وزیر اعظم کو اتھارٹی کو مکمل طور پر فعال ریگولیٹر میں تبدیل کرنے اور ریگولیٹری سینڈ باکس کے آغاز پر بریفنگ دی۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں ایک مضبوط اور موثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ مالیاتی استحکام کو یقینی بناتے ہوئے جدت کو فروغ دیا جا سکے۔
شہباز شریف نے نوجوانوں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بالخصوص مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل فنانس میں مہارت فراہم کرنے کے لیے ہدف پر مبنی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ملکی افرادی قوت کو مستقبل کے معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ معاشی تبدیلی کے اگلے مرحلے کی تیاریوں کے سلسلے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ادائیگیوں اور ریگولیٹڈ ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات جیسے شعبوں میں جدت لانے کے لیے کام جاری ہے۔
