-Advertisement-

فتنہ الخوارج کے خیبر پختونخوا میں شہری آبادی پر حملے جاری، باجوڑ میں ڈرون حملہ

تازہ ترین

ازبکستان میں تیسرے بین الاقوامی ‘لزگی’ رقص میلے کا شاندار اختتام

ازبکستان کے شہر خیوا میں تیسرے بین الاقوامی لازگی ڈانس فیسٹیول کا شاندار اختتام ہو گیا۔ اس تین روزہ...
-Advertisement-

فتنہ الخوارج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں پرامن آبادی میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

باجوڑ کی تحصیل ماموند کے علاقے شاہی تنگی میں فتنہ الخوارج کے ایک کواڈ کاپٹر ڈرون نے کرکٹ گراؤنڈ کو نشانہ بنایا۔ حملے کے وقت گراؤنڈ میں میچ جاری تھا جس کے باعث تین افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر اس وقت کیا گیا جب گراؤنڈ میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر باجوڑ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق مارچ اور اپریل 2026 کے دوران ماموند اور سالارزئی سمیت متعدد سرحدی علاقوں کو افغانستان کی جانب سے مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ان سرحدی حملوں میں تین خواتین اور چھ بچوں سمیت نو شہری شہید ہو چکے ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق فتنہ الخوارج سیکیورٹی فورسز کا براہ راست سامنا کرنے کی سکت کھو چکی ہے اور اب اپنی شکست چھپانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز ان حملوں کا بھرپور جواب دے رہی ہیں۔ جوابی کارروائیوں میں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کی معاونت کرنے والے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بار بار ہونے والے ان حملوں کے باعث مقامی آبادی میں فتنہ الخوارج کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور متاثرہ سرحدی اضلاع میں سیکیورٹی آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -