شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے پیانگ یانگ میں حکمران جماعت کی یوتھ لیگ کانگریس کے وفود سے ملاقات کی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اس تقریب کا مقصد نوجوانوں کو ملکی دفاع اور روس یوکرین جنگ میں کردار کے لیے متحرک کرنا ہے۔
سوشلسٹ پیٹریاٹک یوتھ لیگ کا گیارہواں اجلاس گزشتہ ہفتے اختتام پذیر ہوا جس میں چودہ سے تیس سال کے نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر دارالحکومت میں مشعل بردار جلوس اور عوامی ریلیاں نکالی گئیں۔
کم جونگ اُن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو ریاستی اہداف کے حصول کے لیے ہراول دستہ قرار دیا۔ انہوں نے پارٹی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تنظیمی نظم و ضبط اور نظریاتی پابندی کو یقینی بنائیں۔
حکمران ورکرز پارٹی کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک خط میں نوجوانوں کی وفاداری کو یوکرین جنگ میں شمالی کوریا کی شمولیت سے براہ راست جوڑا گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک تعینات نوجوان فوجی ملک کا وقار بلند کرنے کے لیے خود کو وقف کر چکے ہیں۔
جنوبی کوریا، یوکرین اور مغربی حکام کے مطابق شمالی کوریا نے روس کی مدد کے لیے تقریباً چودہ ہزار فوجی کرسک کے علاقے میں بھیجے تھے جن میں سے چھ ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کم جونگ اُن نے گزشتہ ماہ ان فوجیوں کی یادگار کا افتتاح بھی کیا تھا۔
شمالی کوریا کی جانب سے نوجوانوں پر توجہ مرکوز کرنے کا عمل غیر ملکی ثقافتی اثرات کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے دوران سامنے آیا ہے۔ پیانگ یانگ میں جنوبی کوریا کی موسیقی، فلموں اور زبان کے استعمال کو سنگین سیاسی جرم قرار دیا گیا ہے۔
سربراہ مملکت کم جونگ اُن ان دنوں اپنی بیٹی جو اے کے ہمراہ اہم ریاستی تقریبات میں بھی شرکت کر رہے ہیں، جسے مبصرین سماجی استحکام اور ملکی پالیسیوں کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
