-Advertisement-

اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے پر اتفاق کا امکان

تازہ ترین

مراکش میں فوجی مشقوں کے دوران دو امریکی اہلکار لاپتہ، تلاش جاری

شمالی افریقی ملک مراکش میں سالانہ کثیر القومی فوجی مشقوں کے دوران امریکی فوج کے دو اہلکار لاپتہ ہو...
-Advertisement-

اوپیک پلس ممالک کی جانب سے اتوار کو تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے پر اتفاق متوقع ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل میں خلل کے پیش نظر یہ اضافہ محض کاغذی حد تک محدود رہے گا۔

اوپیک پلس کے سات رکن ممالک نے جون کے مہینے میں تیل کی پیداوار کے اہداف میں ایک لاکھ اٹھاسی ہزار بیرل یومیہ اضافے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ مسلسل تیسرا مہینہ ہے جب پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی تصدیق اوپیک پلس کے مسودے سے بھی ہوتی ہے۔

اس اقدام کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ گروپ جنگ کے خاتمے کے بعد سپلائی بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے گروپ سے علیحدگی کے باوجود اوپیک پلس اپنی حکمت عملی پر قائم ہے۔

اتوار کے اجلاس میں سعودی عرب، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان، روس اور عمان کے نمائندے شریک ہوں گے۔ متحدہ عرب امارات کے نکل جانے کے بعد اب اوپیک پلس میں ایران سمیت 21 ممالک شامل ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں پیداواری فیصلوں میں صرف مذکورہ سات ممالک اور متحدہ عرب امارات ہی متحرک رہے ہیں۔

اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والی ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات کی تیل کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ تنازع سے قبل یہی ممالک گروپ میں پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھنے والے واحد ارکان تھے۔

تیل کے عالمی تاجروں اور خلیجی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بحال ہونے تک یہ پیداواری اضافہ علامتی ہی رہے گا، اور معمول کے مطابق ترسیل بحال ہونے میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے۔

اس تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح یعنی 125 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے ایک سے دو ماہ کے اندر جیٹ فیول کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اوپیک کی گزشتہ ماہ کی رپورٹ کے مطابق مارچ میں تمام اوپیک پلس ارکان کی مجموعی پیداوار 35 اعشاریہ صفر چھ ملین بیرل یومیہ رہی، جو فروری کے مقابلے میں 7 اعشاریہ سات ملین بیرل یومیہ کم ہے۔ برآمدات میں رکاوٹوں کے باعث سب سے زیادہ کمی عراق اور سعودی عرب کی پیداوار میں دیکھی گئی ہے۔ اوپیک پلس کے سات رکن ممالک کا اگلا اجلاس سات جون کو منعقد ہوگا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -