لندن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شمالی فرانس سے برطانیہ جانے کی کوشش میں دو کم سن خواتین سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کا تعلق مبینہ طور پر سوڈان سے تھا اور ان کی عمریں تقریباً بیس برس تھیں۔
علاقائی سرکاری عہدیدار کرسٹوف مارکس نے میڈیا کو بتایا کہ یہ خواتین کشتی میں سوار 82 افراد کے گروپ کا حصہ تھیں۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب جب یہ کشتی سمندر میں اتاری گئی تو انجن سٹارٹ نہ ہونے کے باعث وہ بے قابو ہو کر لہروں کے رحم و کرم پر آ گئی۔
امدادی کارروائیوں کے دوران 17 افراد کو سمندر سے بحفاظت نکال کر بولون سر میر کی بندرگاہ منتقل کیا گیا۔ کشتی میں سوار باقی 65 افراد ساحل کے قریب نیوف چیٹل ہارڈلوٹ کے مقام پر پہنچ گئے جہاں کشتی کے اندر سے دو لاشیں برآمد ہوئیں۔
حادثے میں زخمی ہونے والے 16 افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور ان میں جھلسنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بارڈر پولیس ان سے پوچھ گچھ بھی کرے گی تاکہ اس غیر قانونی سفر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
یہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران فرانس اور برطانیہ کی سرحد پر پیش آنے والا تیسرا المناک واقعہ ہے۔ اس سے قبل یکم اپریل کو گریولائنز کے ساحل پر دو تارکین وطن ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے جبکہ نو اپریل کو بھی چار افراد تیز لہروں کی نذر ہو گئے تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران اب تک اس خطے میں سمندری سفر کے دوران کم از کم 29 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
برطانیہ اور فرانس نے گزشتہ ماہ سمندری راستے سے ہونے والی نقل مکانی کو روکنے کے لیے تین سالہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت فرانس ساحلی علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی نفری بڑھائے گا جبکہ برطانوی حکومت سکیورٹی اخراجات کے لیے مالی معاونت میں اضافہ کرے گی۔ فرانسیسی حکام کا دعوی ہے کہ رواں برس برطانیہ پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی ہے۔
