جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق رکن صوبائی اسمبلی مولانا محمد ادریس کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے 8 مئی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ احتجاج جمعہ کی نماز کے بعد کیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے چارسدہ میں مولانا محمد ادریس کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحوم کی دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر کسی مسلمان کا قتل جہالت کی انتہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا ادریس کی شہادت پوری امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو امن پسند شخصیات کے خلاف تشدد کا افسوسناک عمل قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ انصاف کا بول بالا ہو کر رہے گا۔
سربراہ جے یو آئی نے واضح کیا کہ تمام دینی علما پاکستان کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کے اندر ہتھیار اٹھانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مولانا فضل الرحمان نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کریں۔ انہوں نے انصاف کی فراہمی میں ناکامی پر حکومتی اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
