-Advertisement-

ایپک گیمز کیس: امریکی سپریم کورٹ نے ایپل کی حکم امتناعی کی درخواست مسترد کر دی

تازہ ترین

ایرانی حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں 228 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا، رپورٹ

واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے سے انکشاف ہوا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں...
-Advertisement-

امریکی سپریم کورٹ نے ایپل کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں کمپنی نے ایپ اسٹور سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی تھی۔ یہ معاملہ ویڈیو گیم فورٹ نائٹ بنانے والی کمپنی ایپک گیمز کی جانب سے ایپل کے خلاف دائر کردہ اینٹی ٹرسٹ مقدمے کا حصہ ہے۔

جسٹس ایلینا کیگن نے عدالت کی جانب سے سان فرانسسکو کی نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ نچلی عدالت نے ایپل کو ایپ اسٹور فیس کے تنازع میں عدالتی حکم عدولی کا مرتکب قرار دیا تھا۔ ایپل نے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ نائنتھ سرکٹ کے فیصلے کے خلاف مکمل اپیل دائر کرنے تک حکم امتناعی جاری کیا جائے۔

ایپل اور ایپک گیمز کے مابین ایپ اسٹور کے قوانین پر برسوں سے قانونی جنگ جاری ہے۔ یہ تنازع 2020 میں اس وقت شروع ہوا جب ایپک گیمز نے آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم پر ایپل کے کنٹرول اور ایپس کی تقسیم پر عائد پابندیوں کو چیلنج کیا۔

اگرچہ ایپل نے بڑی حد تک ایپک کے مقدمے کو شکست دی تھی، تاہم 2021 کے عدالتی حکم نامے میں کمپنی کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ڈویلپرز کو اپنی ایپس میں ایسے لنکس شامل کرنے کی اجازت دے جو صارفین کو ایپل کے علاوہ دیگر ادائیگی کے طریقوں کی جانب لے جا سکیں۔

ایپل نے ان لنکس کی اجازت تو دی لیکن ساتھ ہی نئی پابندیاں عائد کر دیں جن میں ایپ اسٹور سے باہر ادائیگیوں پر 27 فیصد کمیشن شامل ہے۔ ایپک گیمز نے موقف اختیار کیا کہ یہ 27 فیصد کمیشن دراصل عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔ سال 2025 میں امریکی ڈسٹرکٹ جج یوون گونزالیز راجرز نے ایپل کو سول توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا تھا۔

ایپل نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکم صرف ایپک تک محدود ہونا چاہیے نہ کہ لاکھوں دیگر ڈویلپرز پر۔ ایپل نے عدالت میں دائر دستاویزات میں کہا ہے کہ دنیا بھر کے ریگولیٹرز اس کیس کا مشاہدہ کر رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ایپل بیرون ملک مارکیٹوں میں خریدی جانے والی مصنوعات پر کتنا کمیشن وصول کر سکتا ہے۔

دوسری جانب ایپک گیمز کا کہنا ہے کہ ایپل کو عدالتی حکم سے بچنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، کیونکہ اس سے کمپنی کو صارفین اور ڈویلپرز کے خرچ پر غیر منصفانہ منافع کمانے کا مزید موقع ملے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -