-Advertisement-

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کا صوبے میں دھماکوں کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ ہونے کا الزام

تازہ ترین

صدر مملکت کا پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب، انتہا پسندی کے خاتمے اور اتحاد پر زور

صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالم اسلام کے جید علمائے کرام پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد...
-Advertisement-

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والے دو دھماکوں کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعات آئندہ سال ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل بدامنی پھیلانے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں۔

سری آنند پور صاحب میں حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھگونت مان نے کہا کہ بی جے پی ان ریاستوں میں اکثر فسادات، دھماکوں یا فرقہ وارانہ کشیدگی کا سہارا لیتی ہے جہاں وہ انتخابی فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ان دھماکوں کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی پنجاب کے انتخابات کی تیاری کر رہی ہے۔

ریاست میں ایک ہی دن میں دو دھماکوں نے سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پہلا واقعہ جالندھر میں بارڈر سکیورٹی فورس ہیڈ کوارٹرز کے قریب پیش آیا جہاں ایک سکوٹر میں ہونے والے دھماکے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس کے چند گھنٹے بعد امرتسر میں خاصا چھاؤنی کے قریب بھی دھماکے کی اطلاع ملی جو کہ فوج اور بی ایس ایف کی تنصیبات کے نزدیک واقع ہے۔

پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس گورو یادو نے جالندھر میں بی ایس ایف ہیڈ کوارٹرز کے قریب اس مقام کا دورہ کیا جہاں گزشتہ رات ایک دو پہیہ گاڑی میں آگ لگنے کے بعد دھماکہ ہوا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے پنجاب کو امن پسند ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام ماضی میں تشدد کے مشکل ادوار سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

بھگونت مان نے بی جے پی کو ایک فرقہ پرست جماعت قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ مغربی بنگال کے انتخابات کے بعد اس پارٹی نے اپنی سیاسی توجہ پنجاب پر مرکوز کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے رہنما خود اعتراف کر چکے ہیں کہ پنجاب ان کا اگلا ہدف ہے اور وہ خوف پھیلا کر اور برادریوں کے درمیان تقسیم پیدا کر کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی مختلف ریاستوں میں انتخابی حکمت عملی کے طور پر فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا استعمال کرتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -