بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس سائبر حملے عالمی مالیاتی استحکام کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ادارے نے اس بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔
آئی ایم ایف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سائبر واقعات کے نتیجے میں ہونے والے بھاری نقصانات فنڈنگ کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں، مالیاتی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں اور مجموعی منڈیوں میں افراتفری پھیلا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کا باہم جڑا ہونا اسے مزید غیر محفوظ بناتا ہے کیونکہ جدید اے آئی ماڈلز کے ذریعے کمزوریاں تلاش کرنے اور ان کا فائدہ اٹھانے میں لگنے والا وقت اور اخراجات انتہائی کم ہو گئے ہیں۔
یہ انتباہ اینتھروپک کمپنی کی جانب سے اپنے نئے ماڈل میتھوس کے حوالے سے خدشات کے اظہار کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔ یہ ماڈل ان خامیوں کو تلاش کرنے میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے جن سے ڈویلپرز اور صارفین پہلے سے واقف نہیں تھے۔ ہیکرز کے ہاتھوں میں ایسی زیرو ڈے کمزوریاں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر کیون ہیسیٹ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حکومت اور نجی شعبہ مل کر ان ماڈلز کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ امریکی کاروباروں اور سرکاری اداروں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔ اس سے قبل امریکی حکومت نے ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ٹیک کمپنیوں کے نئے اے آئی ماڈلز کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے ان کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک، جہاں وسائل کی کمی ہے، سائبر حملوں کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ چند کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز پر حد سے زیادہ انحصار کسی بھی ایک کمزوری کے اثرات کو مزید وسیع کر سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ عالمی مالیاتی نظام مصنوعی ذہانت سے لاحق سائبر خطرات کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مالیاتی استحکام کے تحفظ کے لیے اے آئی کے گرد حفاظتی دیواریں کھڑی کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
