-Advertisement-

ایران کا امریکہ پر سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام

تازہ ترین

کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب ہیلمٹ اور لائسنس کے بغیر الیکٹرک بائیک پر سندھ اسمبلی پہنچ گئے

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کے ایم سی ہیڈ آفس سے سندھ اسمبلی تک الیکٹرک بائیک پر سفر کرکے...
-Advertisement-

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سفارتی کوششوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہا ہے اور خطے میں فوجی کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے ایران کی میزائل صلاحیتوں سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کے حالیہ اندازوں کو بھی یکسر مسترد کر دیا ہے۔

جمعہ کے روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جب بھی سفارتی حل کی کوئی صورت نکلتی ہے، امریکہ لاپرواہ فوجی مہم جوئی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ دباؤ ڈالنے کا کوئی بھونڈا طریقہ ہے یا پھر کوئی ایسا عنصر ہے جو امریکی صدر کو دوبارہ کسی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اس کی جو بھی وجہ ہو، نتیجہ ایک ہی ہے کہ ایرانی قوم کبھی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ انہوں نے کسی مخصوص واقعے کا ذکر کیے بغیر کہا کہ جاری فوجی کشیدگی خطے میں سفارت کاری اور جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی اس رپورٹ کو غلط قرار دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے پاس اب بھی اپنے میزائل ذخائر کا ستر فیصد اور لانچرز کا پچھتر فیصد حصہ موجود ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تہران نے اپنے زیر زمین گوداموں کو دوبارہ فعال کر لیا ہے اور میزائلوں کی مرمت کا عمل بھی جاری ہے۔

ان دعووں کا جواب دیتے ہوئے عباس عراقچی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ سی آئی اے کے اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اٹھائیس فروری کے مقابلے میں ایران کی میزائل صلاحیت اور لانچرز کی تعداد پچھتر فیصد نہیں بلکہ ایک سو بیس فیصد ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے ایران کی تیاری ایک ہزار فیصد ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور خطے میں جاری تصادم کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا ماننا ہے کہ شدید فوجی حملوں کے باوجود ایران کا میزائل انفراسٹرکچر کافی حد تک محفوظ ہے اور تہران نے اپنے زیر زمین نیٹ ورک کو بڑی حد تک بحال کر لیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -