-Advertisement-

ٹرمپ کے دورہ چین سے امریکی آتش بازی کے کاروبار میں نمایاں بہتری

تازہ ترین

اسپین: کینری جزائر کے قریب تاریخ کی سب سے بڑی 30 ٹن کوکین کی کھیپ پکڑی گئی

اسپین کی سیکیورٹی فورسز نے جزائر کناری کے قریب ایک کارگو جہاز سے 30 ٹن کوکین برآمد کر لی...
-Advertisement-

چین کے شہر لیلنگ میں قائم آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹریوں نے امریکہ کے چار جولائی کے جشن آزادی کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ بلیک اسکارپین فائر ورکس کے امریکی بزنس منیجر ولسن لیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ایک سو فیصد سے زائد ٹیرف کے نفاذ کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کے برعکس اس سال آرڈرز میں پندرہ سے تیس فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

آتش بازی کے کچھ ڈبوں پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر اور ان کا نعرہ فائٹ فار امریکہ نمایاں طور پر درج ہے۔ ولسن لیم کے مطابق چین اور امریکہ دنیا کی دو بڑی معیشتیں ہیں اور تجارتی تعلقات کی اہمیت کے پیش نظر دونوں ممالک ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ چین دنیا بھر میں آتش بازی کے کل سامان کی دو تہائی برآمدات کرتا ہے اور امریکہ ان برآمدات کا چالیس فیصد حصہ خریدتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی درآمد کنندگان چین پر انحصار کم کرنے کے خواہاں ہیں تاہم چین سے درآمد ہونے والا سستا اور معیاری سامان امریکی صارفین کی ضرورت ہے۔ شنگھائی میں امریکن چیمبر آف کامرس کے صدر ایرک ژینگ کے مطابق چین سے دوری امریکی صارفین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ وہاں سے ملنے والی مصنوعات کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

گزشتہ برس ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کے بعد کئی چینی فیکٹریوں کو اپنے آرڈرز روکنا پڑے تھے جس کے بعد چین کی جانب سے جوابی کارروائی پر واشنگٹن نے ان رکاوٹوں کو کم کر دیا تھا۔ اب صورتحال بہتر ہونے کے باعث لیلنگ اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں آتش بازی کا کاروبار دوبارہ تیزی سے بحال ہو رہا ہے جہاں لاکھوں افراد اس صنعت سے وابستہ ہیں۔

تاہم کچھ مقامی مینوفیکچررز نے ٹیرف کے خدشات کے پیش نظر اپنی برآمدات کا رخ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک کی جانب موڑ لیا ہے۔ شینگڈنگ فائر ورکس فیکٹری کے بانی لیو فینگ گو کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے اثرات اب بھی موجود ہیں جس کے باعث انہوں نے مقامی منڈیوں اور دیگر ممالک میں فروخت کو ترجیح دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حفاظتی معائنوں کے باوجود چار جولائی کے لیے سامان کی ترسیل کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور جشن آزادی کے مواقع پر کسی قسم کی تاخیر کا امکان نہیں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -