آسٹریلوی حکومت نے جمعہ کے روز کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے تین اعلیٰ رہنماؤں پر انسداد دہشت گردی فنانسنگ کے تحت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام تنظیم کے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے اور ان کی حمایت کرنے کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ بی ایل اے پاکستان بھر میں پرتشدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، جس میں عام شہریوں، اہم تنصیبات اور غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی حکومت دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور یہ پابندیاں دہشت گردوں کی مالی معاونت بند کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد دہشت گردوں کے لیے فنڈنگ، بھرتیوں اور ان کے نقصان دہ نظریے کو پھیلانے کے عمل کو مشکل بنانا ہے۔ آسٹریلیا اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے جو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
حکومتی فہرست کے مطابق، بی ایل اے پاکستان، افغانستان اور ایران میں متحرک ہے۔ یہ پابندیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت 8 مئی کو نافذ کی گئی ہیں۔ پابندیوں کی زد میں آنے والی تنظیموں اور افراد کی فہرست میں بی ایل اے کے مختلف ذیلی گروپوں بشمول مجید بریگیڈ، فتح اسکواڈ اور دیگر کے ساتھ ساتھ بشیر زیب، حمل ریحان اور جیئند بلوچ کے نام شامل ہیں۔
نئے قوانین کے تحت کسی بھی درج شدہ فرد یا تنظیم کے اثاثوں کا استعمال یا ان سے لین دین کرنا اب ایک سنگین جرم تصور ہوگا۔ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانے اور 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ پینی وونگ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آسٹریلیا کی انسداد دہشت گردی پابندیاں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک متوازن اور ہدف پر مبنی کوشش ہیں۔
