-Advertisement-

قطر کے قریب کارگو جہاز پر حملہ اور کویت میں ڈرون مار گرائے جانے سے جنگ بندی خطرے میں

تازہ ترین

امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں: ایرانی کمانڈر

تہران نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری...
-Advertisement-

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں قائم عارضی جنگ بندی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اتوار کے روز قطر کے ساحل کے قریب ایک کارگو جہاز نامعلوم پروجیکٹائل لگنے سے آگ کی لپیٹ میں آ گیا جبکہ کویت نے اپنی فضائی حدود میں ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے۔ ان واقعات نے ایک ماہ قبل ہونے والی اس جنگ بندی کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ معاہدہ تاحال برقرار ہے۔

آبنائے ہرمز میں ایرانی پابندیوں اور امریکی ناکہ بندی کے باعث کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران کو ایک مجوزہ معاہدہ پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد تنازع کا خاتمہ، آبنائے کو بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنا اور ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے مطابق ایران کے پاس 440 کلوگرام سے زائد ساٹھ فیصد تک افزودہ یورینیم موجود ہے جو ہتھیاروں کی تیاری کے معیار کے انتہائی قریب ہے۔ ایرانی فوج نے جوہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے مکمل تیاری کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی بریگیڈیئر جنرل اکرم نیا نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکام جوہری تنصیبات کے خلاف کسی بھی ممکنہ دراندازی یا فضائی حملے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔

برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق بحری واقعہ دوحہ سے 23 ناٹیکل میل شمال مشرق میں پیش آیا۔ جہاز پر لگنے والی آگ پر فوری قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاحال جہاز کی ملکیت اور حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

دوسری جانب کویتی حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کی صبح دشمن ڈرونز نے ملکی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر دفاعی ردعمل دیا گیا۔ اس واقعے میں بھی کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو مکمل فوجی کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -