-Advertisement-

امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں: ایرانی کمانڈر

تازہ ترین

ایران نے امریکی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا

تہران نے خطے میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا باضابطہ جواب پاکستانی ثالثوں کے ذریعے...
-Advertisement-

تہران نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ انتباہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اعلیٰ عسکری قیادت کے درمیان ہونے والے ایک اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے سپریم لیڈر سے ملاقات کی اور انہیں ملک کی دفاعی صلاحیتوں اور عسکری تیاریوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس اجلاس میں باقاعدہ فوج، پاسدارانِ انقلاب، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرحدی محافظوں، وزارتِ دفاع اور بسیج فورس کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

میجر جنرل علی عبداللہی نے تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے تمام مجاہدین امریکی اور صہیونی دشمنوں کی کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر دشمن نے کوئی بھی تزویراتی غلطی کی تو ایران کا ردعمل انتہائی تیز، شدید اور طاقتور ہوگا۔

ملاقات کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے عسکری کمانڈروں کو نئی ہدایات جاری کیں اور انہیں دشمنوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن موقف برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز ایران کا مرکزی عسکری کمانڈ سینٹر ہے جو روایتی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے مابین کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے بارہا خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کا فوجی دباؤ یا براہِ راست تصادم خطے کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنے گا۔ تاہم، اس اہم ملاقات کا مقام اور وقت تاحال ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -