تہران نے خطے میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا باضابطہ جواب پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھجوا دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق تہران نے امریکی مسودے پر اپنا موقف پاکستان کے توسط سے پہنچایا ہے تاہم اس جواب کی تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔
مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت کا موجودہ مرحلہ خطے میں دشمنی کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ مجوزہ فریم ورک کا مقصد سیاسی یا سکیورٹی امور سے قبل جنگ بندی کا قیام یقینی بنانا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے سفارتی عمل میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد اس سے قبل آٹھ اپریل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کروانے میں مرکزی کردار ادا کر چکا ہے جس کے نتیجے میں تقریباً چالیس روز تک جاری رہنے والی کشیدگی کا خاتمہ ہوا تھا۔
اس حوالے سے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کی بحالی اور جاری سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے تمام فریقین کی جانب سے تعمیری کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
ادھر قطر نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قطری وزیر اعظم نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کسی سمجھوتے کی محتاج نہیں ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرنے سے مشرق وسطیٰ کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے اس آبی راستے کے حوالے سے کسی بھی قسم کا خطرہ علاقائی حکومتوں اور عالمی منڈیوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
