بھارت کی ریاست گجرات کے علاقے لٹل رن آف کچھ میں واقع نمک کے میدانوں میں کام کرنے والے پچاس ہزار مزدور شدید گرمی اور انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ مزدور آٹھ ماہ تک بجلی اور صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ویران صحرا میں قیام کرتے ہیں، جہاں پینے اور دھلائی کے پانی کی فراہمی کے لیے انہیں ہر پچیس دن بعد ایک ٹینکر پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
خطے میں موسم گرما کے دوران درجہ حرارت معمول سے بڑھ کر پینتالیس سے اڑتالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ گجرات بھارت کی کل نمک کی پیداوار کا تقریباً تین چوتھائی حصہ فراہم کرتا ہے، مگر اس پیداوار کے حصول کے لیے مزدوروں کو تپتی دھوپ میں جان لیوا حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بائیس سالہ مزدور بابولال نارائن کا کہنا ہے کہ وہ کام کے اوقات کو تقسیم کر کے صبح سویرے یا سورج غروب ہونے کے بعد محنت کرتے ہیں۔ شدید گرمی کے دوران مزدور جھونپڑیوں میں پناہ لیتے ہیں جنہیں لکڑیوں کے ڈھانچوں، کپڑے اور گدھے کے گوبر سے تیار کیا جاتا ہے۔ سترہ سالہ بھاونا راٹھور کے مطابق یہ گوبر سورج کی تپش کو روکتا ہے جبکہ کپڑا ہوا کو گزرنے کا موقع دیتا ہے جس سے درجہ حرارت میں کچھ کمی محسوس ہوتی ہے۔
پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے مزدور گیلے کپڑوں میں لپٹی بوتلیں استعمال کرتے ہیں جبکہ کچھ مزدور گرم چائے کا سہارا لیتے ہیں تاکہ پسینہ آنے سے جسم کا درجہ حرارت متوازن رہ سکے۔ بھارت کے محکمہ موسمیات نے اس سال گجرات سمیت کئی علاقوں میں معمول سے زیادہ ہیٹ ویو کے دنوں کی پیش گوئی کی ہے۔
پہلے نمکین پانی نکالنے کے لیے مہنگے ڈیزل پمپ استعمال ہوتے تھے، تاہم شمسی توانائی کے استعمال نے اخراجات کم کیے ہیں جس کے باعث اب کام کا دورانیہ مارچ سے آگے بڑھ کر گرم ترین مہینوں تک پھیل گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مزدوروں میں شدید تھکاوٹ، چکر آنا اور متلی جیسی علامات عام ہیں جو ہیٹ اسٹریس کی نشاندہی کرتی ہیں، جس سے گردوں کے افعال متاثر ہونے اور موت کا خطرہ بھی لاحق رہتا ہے۔
بھارت میں کام روکنے کے لیے کوئی مخصوص قانونی درجہ حرارت مقرر نہیں ہے، بلکہ انحصار محکمہ موسمیات کے انتباہات پر ہوتا ہے۔ نمک کی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بے موسمی طوفان اور شدید گرمی ان کے روزگار کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ بابولال نارائن نے بتایا کہ گزشتہ ماہ آنے والے گرد آلود طوفان سے انہیں دو لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
ساٹھ سالہ رسودا راٹھور کا کہنا ہے کہ ان کے پاس زمین یا مویشی جیسی روزگار کی کوئی متبادل سہولت نہیں ہے، اسی لیے وہ انتہائی کٹھن حالات میں بھی اس کام کو جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔
