ایوان بالا کے اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی اور ملکی قرضوں کے بوجھ پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں حکومتی بنچوں نے معاشی دباؤ کا ذمہ دار عالمی تناؤ اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کو قرار دیا۔
سینیٹ نے مختلف اہم بلوں کی منظوری دی جن میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری مینڈیٹری تھیلیسیمیا اسکریننگ بل 2026، کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی بل 2026، پاکستان پینل کوڈ ترمیمی بل 2026، اسلام آباد میٹرنٹی بینیفٹس ترمیمی بل اور رائٹ ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ترمیمی بل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایوان نے متفقہ طور پر قواعد میں ترمیم کی جس کے تحت اب اجلاس کے آغاز میں تلاوت کلام پاک کے بعد نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھی جائے گی۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو عوام پر پیٹرول بم قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود مقامی سطح پر اضافہ کیا جا رہا ہے اور ملکی قرضے خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی ملک کے لیے سنگین صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے موجودہ سیاسی نظام کو ایڈہاک قرار دیا اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ان کے اہل خانہ کی ملاقات کا مطالبہ کیا۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی مرضی سے قیمتیں نہیں بڑھا رہی بلکہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت کیے گئے وعدے اس کی مجبوری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف عوام پر پڑنے والے بوجھ سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ حکومت کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور پی ٹی آئی بانی اور ان کی اہلیہ کو تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے جس کا اثر آبنائے ہرمز سے منسلک ممالک پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز فولادی دیوار بن کر ملک کا دفاع کر رہی ہیں۔ اجلاس کے دوران بنوں سانحے کے شہدا کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جس کے بعد اجلاس منگل کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
