-Advertisement-

خطے میں کشیدگی کے باوجود قطر کا دوسرا ایل این جی ٹینکر پاکستان پہنچ رہا ہے

تازہ ترین

ہینٹا وائرس کا خطرہ تشویشناک نہیں، امریکی سی ڈی سی حکام کا بیان

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے قائم مقام ڈائریکٹر جے بھٹاچاریہ نے ہینٹا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ...
-Advertisement-

قطر سے مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی لے جانے والا دوسرا بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے باوجود ایران اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے خصوصی انتظام کے تحت یہ ترسیل ممکن بنائی جا رہی ہے۔

ایل ایس ای جی شپنگ ڈیٹا کے مطابق ایک لاکھ 74 ہزار مکعب میٹر گنجائش کا حامل بحری جہاز مہزم قطر کی بندرگاہ راس لفان سے روانہ ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ یہ 12 مئی کو پاکستان کی پورٹ قاسم پہنچ جائے گا۔ ایران اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران قطر کے ایل این جی ٹینکر کا آبنائے ہرمز سے یہ دوسرا کامیاب گزر ہوگا۔

اس سے قبل ہفتے کے روز ال خریطیات نامی ایل این جی ٹینکر نے ایران کی جانب سے منظور شدہ شمالی راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کا عمل شروع کیا تھا جو اتوار کو کامیابی سے مکمل ہوا۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ ایل این جی قطر کی جانب سے پاکستان کو حکومتی سطح کے معاہدے کے تحت فروخت کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایران نے قطر اور پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی کے عمل کے تحت اس ترسیل کی منظوری دی ہے۔ آنے والے دنوں میں قطر سے مزید دو ایل این جی ٹینکرز کے پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔

پاکستان، جو شدید گیس بحران کا سامنا کر رہا ہے، ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ محدود تعداد میں ایل این جی ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت مل سکے۔ ایران نے اس سلسلے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور دونوں ممالک قطر سے آنے والی گیس کی محفوظ ترسیل کے لیے ہم آہنگی کر رہے ہیں۔

اس سے قبل رواں ماہ متحدہ عرب امارات کی کمپنی ایڈنوک نے بھی اپنے دو ایل این جی ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزارا تھا جن کے ٹریکنگ سگنلز کو احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ یہ اقدامات خطے میں جاری کشیدگی اور سمندری راستوں پر موجود خطرات کی عکاسی کرتے ہیں۔

دنیا میں ایل این جی برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک قطر ہے جس کی زیادہ تر ترسیل ایشیائی منڈیوں کو جاتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی حملوں کے نتیجے میں قطر کی ایل این جی برآمدی صلاحیت کا 17 فیصد متاثر ہوا ہے اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ مرمت کے کام کے باعث سالانہ ایک کروڑ 28 لاکھ میٹرک ٹن ایندھن کی ترسیل تین سے پانچ برس تک متاثر رہ سکتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -