-Advertisement-

روس رواں سال دنیا کا طاقتور ترین ‘سرمت’ جوہری میزائل تعینات کرے گا، ولادیمیر پیوٹن

تازہ ترین

پاکستان اور آسٹریا کا علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال، اسحاق ڈار کا ایران، امریکہ ثالثی جاری رکھنے کا عزم

پاکستان اور آسٹریا کے درمیان سفارتی روابط میں تیزی آ گئی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد...
-Advertisement-

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ روس رواں برس کے اختتام تک اپنے نئے سارمات اسٹریٹجک جوہری میزائل کو فعال کر دے گا۔ پیوٹن نے اس میزائل کو دنیا کا طاقتور ترین ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ اور یورپ کے دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

منگل کے روز ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس میزائل کے وار ہیڈ کی تباہ کن صلاحیت مغربی ممالک کے کسی بھی مساوی ہتھیار سے چار گنا زیادہ ہے اور اس کی رینج 35 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سارمات موجودہ اور مستقبل کے تمام اینٹی میزائل دفاعی نظاموں کو چکمہ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ادھر مغربی سیکیورٹی ماہرین نے پیوٹن کے ان دعووں کو مبالغہ آرائی قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق 2018 میں شروع کیے گئے جدید کاری کے پروگرام کے تحت تیار کیے گئے ان ہتھیاروں کی کارکردگی کے حوالے سے روسی بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سارمات کو ماضی میں کئی ناکامیوں کا بھی سامنا رہا ہے، جس میں ستمبر 2024 کا ایک تجربہ شامل ہے جس کے دوران لانچ سائلوس میں گہرا گڑھا پڑ گیا تھا۔

روسی سرکاری ٹی وی نے اسٹریٹجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکائیف کی پیوٹن کو دی گئی بریفنگ دکھائی، جس میں انہوں نے منگل کے روز سارمات کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا۔ کاراکائیف نے کہا کہ سارمات نظام کی شمولیت سے زمینی جوہری فورسز کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور یہ اسٹریٹجک ڈیٹرنس کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے ولادیمیر پیوٹن مسلسل روسی جوہری ہتھیاروں کی طاقت کا ذکر کر رہے ہیں۔ مغربی مبصرین کا ماننا ہے کہ پیوٹن کے یہ بیانات دراصل مغربی ممالک کو یوکرین کی حمایت میں براہ راست مداخلت سے باز رکھنے کی ایک کوشش ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -