بنگلہ دیش نے ڈھاکا میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 104 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔ بارش سے متاثرہ اس میچ کے آخری روز بنگلہ دیشی فاسٹ بولر ناہید رانا کی تباہ کن بولنگ کے سامنے قومی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔
پاکستان کو جیت کے لیے 268 رنز کا ہدف ملا تھا اور ایک موقع پر قومی ٹیم تین وکٹوں کے نقصان پر 119 رنز بنا کر مستحکم پوزیشن میں دکھائی دے رہی تھی تاہم آخری سیشن میں پوری ٹیم 163 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ ڈیبیو کرنے والے عبداللہ فضل نے 66 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی جبکہ سلمان آغا 26 رنز بنا سکے۔
بنگلہ دیش کے 23 سالہ فاسٹ بولر ناہید رانا نے کیریئر کی بہترین بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 40 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ ناہید رانا نے اپنے آخری اسپیل میں محض 10 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جس میں محمد رضوان کو 147 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کی گئی شاندار یارکر پر کلین بولڈ کرنا بھی شامل تھا۔
بنگلہ دیشی کپتان نجم الحسن شانتو نے اس تاریخی فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے گزشتہ چند ماہ کے دوران سخت محنت کی ہے اور ہم ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ اس جیت کے ساتھ ہی شانتو بطور کپتان سات ٹیسٹ میچز جیتنے والے مشترکہ کامیاب ترین بنگلہ دیشی کپتان بن گئے ہیں۔
پاکستان کے کپتان شان مسعود نے شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ٹیم اہم لمحات میں کھیل پر گرفت برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی اننگز میں بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں بہتر کارکردگی کی ضرورت تھی۔
بنگلہ دیش نے اپنی دوسری اننگز 240 رنز نو کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلیئر کی تھی جس میں شانتو کے 87 رنز نمایاں رہے۔ پاکستان کی پہلی اننگز 386 رنز پر ختم ہوئی تھی جس میں مہدی حسن میراز نے پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ سیریز کا دوسرا اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ ہفتے کے روز سلہٹ میں شروع ہوگا۔
