-Advertisement-

بھارت: آر ایس ایس کا اقلیتوں پر تنقید کے تدارک کے لیے بیرونِ ملک لابنگ کا فیصلہ

تازہ ترین

وزیراعظم کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں امن و امان کی صورتحال اور وزارت داخلہ کے امور کا جائزہ لینے...
-Advertisement-

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریاتی سرپرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے اپنی شبیہ بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مہم شروع کر دی ہے۔ تنظیم کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابولے نے منگل کے روز دہلی میں غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ آر ایس ایس نے امریکہ، جرمنی اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں دورے کیے ہیں تاکہ تنظیم کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی نومبر کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں آر ایس ایس کو دہائیوں سے اقلیتی برادریوں کے خلاف تشدد اور عدم برداشت میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ امریکی کمیشن ایک دو جماعتی وفاقی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی نگرانی کرتا ہے اور امریکی صدر، وزیر خارجہ اور کانگریس کو پالیسی تجاویز دیتا ہے۔

دہلی میں اپنی بارہ منزلہ نئی عمارت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دتاتریہ ہوسابولے نے تنظیم پر عائد ان الزامات کو مسترد کیا کہ یہ ایک نیم فوجی تنظیم ہے، معاشرے کو پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہے یا ہندو بالادستی کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس کا مقصد ہندوؤں کو متحد کرنا اور بھارت کو بلندیوں تک لے جانا ہے۔

آر ایس ایس کی تاریخ متنازع رہی ہے اور 1925 میں قیام کے بعد سے اس پر کئی بار پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ خاص طور پر 1948 میں مہاتما گاندھی کے قاتل کا تعلق اسی تنظیم سے ہونے کے بعد اس پر پابندی لگائی گئی تھی۔ بھارتی اپوزیشن رہنما بالخصوص کانگریس کے راہول گاندھی مسلسل یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ آر ایس ایس کی انتہا پسندانہ نظریات بھارت کے سیکولر ڈھانچے کے لیے خطرہ ہیں اور ملک میں اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت کو ہوا دے رہے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، جو اپنی جوانی میں آر ایس ایس کا حصہ رہے، اب تک تنظیم کے اہم ایجنڈے کو عملی جامہ پہنا چکے ہیں جن میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ شامل ہے۔

تاہم 2024 کے حالیہ عام انتخابات میں مودی کی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنا اور اپوزیشن کی جانب سے نچلی ذاتوں کے حقوق کے معاملے کو اٹھانا تنظیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے۔ دتاتریہ ہوسابولے نے کہا کہ اب تنظیم کا ایک اہم مقصد ہندو ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیاز کا خاتمہ کرنا ہے۔ آر ایس ایس کی جانب سے آنے والے دنوں میں یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا کے مزید ممالک کے دوروں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -